نظم: گلدستے میں‌ تم اچھے تھے۔ سیدمحبوب احمدچشتی

نظم: گلدستے میں‌ تم اچھے تھے۔ سیدمحبوب احمدچشتی تم سےچاہت ،اپنائیت اس وسلیے کیوجہ سےتھی جسکوتم نےاپنےمنہ سےیہ بتایاتھا دنیا کو بتلیا تھا یہ ہمارامحسن ہے۔ اُس وقت ! تم واقعی بہت اچھےتھے جب تک ایک گلدستے میں تھے۔ تربیت، نظریات عہدوفا یہ سب کھبی آسمان کی بلندی پرتھے جب تم سب ایک تھے ایک گلدستے کی…

Read Full News

کتنا دشوار ہے جذبوں کی تجارت کرنا 

کتنا دشوار ہے جذبوں کی تجارت کرنا ایک ہی شخص سے دو بار محبت کرنا جس کو تم چاہو کوئی اور نہ چاہے اس کو اس کو کہتے ہیں محبت میں سیاست کرنا سرمئی آنکھ حسیں جسم گلابی چہرا اس کو کہتے ہیں کتابت پہ کتابت کرنا دل کی تختی پہ بھی آیات لکھی رہتی…

Read Full News

کون کون زندہ ہے

خواب ریزہ ریزہ ہیں مرچکی تمنائیں ہے لہولہان امید خواہشوں نے دم توڑا آرزو نہیں باقی اب کوئی جنازے پر جب گلے لگاتا ہے درد کم نہیں ہوتا صبرآنہیں جاتا اب توبس گلے لگ کر ہم سوال کرتے ہیں جسم و روح کا رشتہ کیا ابھی سلامت ہے؟ دیکھ کربتاؤ تو دل میرا دھڑکتا ہے؟…

Read Full News

ایسے پتھر کو اب نہ خدا کیجئے، غزل’طارق خان

  عزل جفاوں کے بدلے، وفا کیجئے ۔۔۔ برا وہ کریں تو، بھلا کیجئے ۔۔۔ یہ محبت کا سودا، عجب چیز ہے ۔۔۔ جو گریزاں ہے، اس سے ملا کیجئے ۔۔ خود بدلتا ہو جو بادباں کی طرح ۔۔۔ ایسے بزدل کو کیا رہنما کیجئے ۔۔ اپنے ہاتھوں سے تم نے تراشا جسے ۔۔۔ ایسے…

Read Full News