متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) نے اقلیت نشست پر کامیاب ہونے اور دبئی می روپوش رکن ڈاکٹر موہن منجیانی کے استعفے کی تصدیق کردی۔
رابطہ کمیٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر موہن کے بارے میں حساس اداروں کی رپورٹ پر اُن سے استعفیٰ طلب کیا گیا، ڈاکٹر موہن منجیانی غیر قانونی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر موہن کی اسلام آباد میں بھارتی سفارت خانے میں بھی سرگرمیاں نوٹ کی گئی تھیں۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل ڈان نیوز سے وابستہ صحافی مہمند نے ڈاکٹر موہن کو ڈی نوٹیفائی کروانے سے متعلق ایک تہلکہ خیز اسٹوری بریک کی تھی، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایم کیو ایم قیادت نے 5 کروڑ روپے کے عوض ڈاکٹر موہن کو مخصوص نشست بیچی۔
انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ نشست پر کامیابی سے پہلے ایم کیو ایم قیادت نے رقم ادائیگی کا تقاضہ کیا تو ڈاکٹر موہن نے نوٹی فکیشن کی کامیابی کے بعد رقم ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ پھر الیکشن کمیشن کی جانب سے کامیابی کا نوٹی فکیشن جاری ہونے کے بعد ڈاکٹر موہن نے انکار کیا۔
اس پر ایم کیو ایم نے اُن کا جعلی دستخط سے استعفیٰ الیکشن کمیشن میں جمع کروایا اور پھر اثر و رسوخ سے دوسری سماعت پر اسے منظور بھی کروالیا۔ مہمند کے مطابق ایم کیو ایم قیادت نے مبینہ طور پر یہ نشست اب دوسرے اقلیتی رکن کو دس کروڑ روپے میں فروخت کردی ہے۔