کراچی: وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق نے کہا ہے کہ این ای ڈی یونیورسٹی میں ڈھائی ارب روپے سے 6 ماہ کی مختصر مدت میں سینٹر آف ایکسیلنس گیمنگ اینڈ اینیمیشن قائم کرنے جارہے ہیں۔ اس سینٹر کے ذریعے سالانہ 2 ہزار طلبا و طالبات کو بالکل فری مہنگے ترین اینیمیشن اور گیمنگ کورسز کروائے جائیں گے۔
انہوں نے یہ بات جمعہ کو وزارت آئی ٹی کے ادارے اگنائٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ اور این ای ڈی یونیورسٹی کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب سے خطاب میں کہی۔ یادداشت پر دستخط اگنائٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عاصم شہریا حسین اور این ای ڈی کے رجسٹرار سید غضنفر حسین نے کئے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی کا کہنا تھا کہ اس خواب کی تعبیر کی جانب اہم قدم بڑھایا جارہا ہے جس میں صرف کراچی کی نہیں بلکہ ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔کراچی جو ملک کی معیشت میں 67 فیصد ریونیو دیتا ہے،پورے ملک کو چلاتا ہے۔کراچی کو چلانے اور اس کے رہنے والوں کی فلاح اور ترقی کیلئے کبھی بھی سنجیدہ اقدامات نہیں کیئے گئے۔ این ای ڈی یونیرسٹی میں ” سینٹر آف ایکسیلنس و گیمنگ اینڈ اینیمیشن کا قیام اس شہر کے نوجوانوں کیلئے وزارت آئی ٹی کی جانب سے ایک تحفہ ہے۔دنیا میں گیمنگ و اینیمیشن کی انڈسٹری 500 ارب ڈالرز سے زائد کا حجم رکھتی ہے جس میں سے پاکستان کا حصہ صرف 5 کروڑ ڈالرز تک محدود ہے۔
امین الحق کا کہنا تھا کہ 13 ہزار اسکوائر فٹ پر این ای ڈی یونیورسٹی میں قائم ہونے والے نادر فن سینٹر آف ایکسیلینس اینڈ اینیمیشن و گیمنگ پر ایک ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی اور یہ انشاء اللہ 6 ماہ میں فعال ہوجائے گا۔ اس سینٹر میں گیمنگ و اینیمیشن کا کام کرنے والی 50 کمپنیوں کو جگہ بھی فراہم کی جائے گی، جس سے وہ اپنے کام کو بہتر محول و ٹیکنالوجی کے ساتھ کرسکیں گے اور طلبہ وطالبات کو ان سے اپنے آئیڈیاز شیئرنگ اور کام کے طریقہ کار کو جاننے کا عملی موقع بھی مل سکے گا۔ساتھ ہی ایک ارب روپے لاگت سے پاکستان کا پہلا جدید ترین ورچوئل پروڈکش اسٹوڈیو بھی قائم کیا جارہا ہے۔اس اسٹوڈیو سے ہمارے ہنرمند جدید ترین کیمروں، اور آلات کی مدد سے گیمنگ و اینیمیشن کی عالمی معیار کی پروڈکش کرسکیں گے۔
ممبر آئی ٹی سید جنید امام نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارا ہدف پاکستان کی گیمنگ اور اینیمیشن کی برآمدات کو اگلے پانچ سالوں میں 50 کروڑ ڈالرز تک لے جانا ہے۔ اگنائٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عاصم شہریار حسین نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد پاکستان کو گیمنگ، اینی میشن، اور ملٹی میڈیا انڈسٹری میں پانچ 5سالوں کے دوران اہم علاقائی اسٹیک ہولڈرز میں سے ایک بنانا ہے۔