ایم کیو ایم نے ’حقوق کراچی‘ کیلیے دھرنے کا اعلان کردیا

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے کراچی کے حقوق 12 فروری کو شہر میں دھرنے کا اعلان کردیا۔

یہ اعلان ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے پیپلزپارٹی کو حلقہ بندیوں کی درستی اور معاملات ٹھیک کرنے کیلیے ایک ہفتے کا وقت بھی دیا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ 12 فروری کو فوارہ چوک پر دھرنا ہوگا اور ہم وہیں سے بیٹھ کر شہر کو چلا کر دکھائیں گے، دھرنا بھی ایسا ہوگا کہ سب دھرا کا دھرا رہ جائے گا، یہ شہر ہمارا ہے اور ہمارے باپ کا ہے‘۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج سے ایک ہفتے بعد کراچی اس جگہ پر ہوگا جہاں فیصلہ کریں گے، شہر کی ساری سڑکیں دھرنے کی جانب رواں دواں ہوں گی، اگلے اتوار دھرنے کو فوارہ چوک پر شفٹ کریں گے، تمام دفاتر ، شعبہ جات وہاں شفٹ کریں گے اور اس شہر کو وہیں سے چلائیں گے کیونکہ یہ شہر ہمارا ہے ،اور ہمارے باپ کا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی نے وعدہ کیا اور اعتراف کیا کہ وہ حلقہ بندیوں میں 53 یوسیز کھا گئے، اقرار کرنے کے بعد ٹین ون کا نوٹی فکیشن واپس لے لیا، لیکن یہ کیسے بے شرم ہیں، ہم نے کہا تھا کہ ہم الیکشن نہیں لڑیں گے تو الیکشن نہیں ہوگا اور نہیں ہوا ہے، اب اٹھارہ مارچ کو ہم قومی اسمبلی کے حلقوں پر ہونے والے ضمنی الیکشنز بھرپور طریقے سے لڑیں گے اور کراچی کراچی والوں کے پاس واپس آچکا ہوگا‘۔

ایم کیو ایم کنونیئر نے کہا کہ ’پہلے بھی کہا تھا یہ چودہ سیٹیں تمھیں واپس دینی ہوگی اور تمھارا باپ بھی دے گا، سولہ مارچ کو اپنی چھینی ہوئی قومی اسمبلی کی نشتیں واپس لیں گے اور باقی عام انتخابات سے پہلے پہلے لیں گے، ایک الیکشن واپس لے لیا اب دوسرا بھی لینا ہے، جس الیکشن سے دستبردار ہوئے تھے اسکے لیے اب دست و گریبان ہونا ہوگا، اب باہر نکلنا ہوگا سازشی چہروں کو بے نقاب کردیا ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’مردم شماری وقت سے پانچ سال پہلے ہورہی ہے، یہ مردم شماری ایم کیو ایم کے مطالبے پر ہورہی ہے، ایک ایک شخص کو خود کو گنوانا ہے، اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے، حکمرانوں کو کہا تھا کہ ہمیں گنا نہیں تو تولنا پڑ جائے گا، یہ بھی کہا تھا کہ یہ الیکشن تمھیں ہضم نہیں ہو پائے گا، الیکشن ہارنا کوئی آپشن نہیں، الیکشن کے لیے آج سے تیاری شروع کردیں‘۔