متحد ہونا ہی پڑے گا،گورنرسندھ، فاروق ستارسے ملاقات

کراچی:سربراہ تنظیم (ایم کیو ایم) پاکستان بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار کی رہائش گاہ پی آئی بی کالونی میں گورنر سندھ جناب کامران ٹسوری نے ڈاکٹر فاروق ستار سے ملاقات کی۔

ملاقات میں ملک بالخصوص شہری سندھ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر مرکزی اراکینِ او آر سی کمیٹی مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران کارکنان اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔

اس موقع پر گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہر پر مافیاز کا راج ہے سمندر ہونے کے باوجود پانی کی بوند بوند اور گیس کو ترس رہے ہیں نوجوانوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں عوام اسے چن لیں جو شہریوں کے لئے سوچ رکھتا ہے آج شہر صوبے اور ملک کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے شہری بوند کو ترس رہے ہیں نا گیس ہے نا بجلی حقوق کے لئے ایک ہونا ہوگا ۔

گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ مصطفٰی کمال فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی سوچ ایک ہے ہمیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر ساتھ چلنا ہوگا پھر دیکھتے ہیں کون روک سکتا ہاتھ تھامنے اور عزم کی ضرورت ہے ۔

انھوں نے کہا کہ ہم سب کراچی کے راستوں کی طرح ٹوٹ چکے ہیں ہمارے شہریوں کے اندر زخم موجود ہیں اور ان زخموں پر مرہم رکھنے والا بے اختیار ہیں کیونکہ ہم اب بکھر گئے ہیں ہم نے اپنی غلطیوں سے اس شہر کا اقتدار کھو دیا یہ اپ نے اختیار کرنا ہے کہ ہمیں حق چایئے یا نہیں ہم اپنے ہاتھ سے اس شہر کو نکلتا دیکھ رہے ہیں ،کسی نہ کسی کو یہ خیال آنا ہے نئے سال پر عہد کرتے ہیں کہ اب جو سال شروع ہوگا وہ خوشیوں کا ہے ہم حق چھین کر لے لیں گیں کیونکہ کوئی حق دے نہیں رہا ہے ۔

گورنر سندھ نے پیپلز پارٹی سے خطاب کے دوران شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتہ ہوگیا ہے اب تک ڈی ایم سی سینٹرل کا نوٹیفیکیشن نہیں دے رہے ہیں کیونکہ وہ دینا نہیں چاہتے۔

انھوں نے مزید کہا کہ سب ہی اس شہر کو خوش حال دیکھنا چاہتے ہیں کوئی یہ نہیں سوچ رپا ہے کہ اس شہر کو ٹھیک کرنا ہے ہمارے لوگوں کے دل ٹوٹ گئے ہیں یہ تو بہانا ہے بائکاٹ ہے لوگ ووٹ ہی نہیں دینا چاہتے ہیں ،تعلیم اور صحت کانظام بہتر نہیں ہے کچھ بھی نہیں ہے ایک ہو کر دیکھاتے ہیں اور پھر بتاتے کہ روک سکو تو روک لو ۔

گورنر سندھ نے کراچی میں ڈکیتیوں کی مزمت کرتے ہوئے کہا کہ ہر دوسرے دن ماں کی کوک صرف ایک موبائل کے لیئے اجڑ رہی ہے کبھی کہتے ہیں افغانی آگئے ایک یہ شہر ہی ہے جس کا مال بھی لے لو اور جان بھی لے لو ۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے ساتھ حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا، کامران بھائی نے ہر مسئلے پر روشنی ڈالی ہےم آج 31 دسمبر ہے سخت ازمائش والے سال کو ختم کرنے کا وقت ہے 2016 میں ایم کیو ایم پاکستان کی تقسیم کیئے گئے یہ ایم کیو ایم کے دھڑے سارے ایک فیکٹری کا پروڈکٹ ہے ڈھائی سال سے میں یہ کوشش کر رہا تھا کہ تقسیم کو ختم کرنا ہوگا ،ہم الیکشن کی تیاری نہیں کر رہے ہیں، آج مایوسی سے مہاجروں کو نہیں نکالا گیا تو کسی بھی وقت ملک دشمنی قوتیں سامنے آجائے گی ،کراچی چلتا ہے تو پاکستان چلتا ہے یہ گیس ، بجلی اور پانی اس لیئے نہیں ہے کیونکہ اتحاد نہیں ہے ۔

انھوں نے کہا کہ آج بھی میں ایم کیو ایم کو اون کرتا ہوں، آج تقسیم سے ہم تباہ ہوگئے ، اس شہر میں دیگر قومیتیں بھی رہتی ہیں یہ سب زبان بولنے والے مظلوموں کو جوڑنے کی بات ہورہی ہے۔

فاروق ستار نے کہا میں کامران ٹیسوری کی کاوشوں کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں۔