قندیل بلوچ قتل کا فیصلہ، مفتی قوی بے گناہ قرار

ملتان کی ماڈل کورٹ نے کئی سالوں سے زیر سماعت ماڈل قندیل بلوچ قتل کا فیصلہ سنادیا جس میں بھائی کو قصور وار قرار دیتے ہوئے اُسے 25 برس کے لیے جیل بھیج دیا گیا جبکہ عدالتی فیصلے میں بتایا گیا کہ مفتی عبدالقوی بے گناہ قرار پائے گئے۔

قندیل کیس تین اگست کو ماڈل کورٹ منتقل کیا گیا جس کے بعد روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوئی اور گزشتہ روز وکلا نے گزشہ روز دلائل مکمل کرلیے تھے، مدعی قندیل کے والد اسلم ماہڑہ نے بیٹی کے قتل میں تین بیٹوں وسیم ، عارف اور اسلیم شاہین سمیت مفتی قوی، حق نواز، عبدالباسط اور ظفر کو نامزد کیا تھا۔

اس دوران مقتولہ کے بھائی اور مرکزی ملزم وسیم نے قتل کے اگلے روز پولیس کو ازخود گرفتاری دے کر اور اقبال جرم بھی کیا تھا تاہم بعد میں وہ مکر گیا تھا۔قندیل بلوچ کے والدین نے بھی اپنے تینوں بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست عدالت میں جمع کروائی جسے عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔ کیس کا مزکری ملزم وسیم جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے جبکہ باقی ملزمان ضمانت پر رہا ہیں۔

دوسری جانب مفتی قوی یہ بھی دعویٰ کرچکے ہیں کہ انہیں وزیراعظم عمران خان نے مشیر قانون بنانے کی مںظوری دے دی جس کے بعد وہ آئندہ چند دنوں میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔