کراچی: سکریٹری بورڈزاینڈجامعات کی کوششوں سےحکومت سندھ نےصوبےکےسرکاری بورڈزکے لیےایک ہزارملین روپے(ایک ارب )کی گرانٹ جاری کردی ہے،صوبائی حکومت نےسال 2022/23کے بجٹ میں مفت تعلیم کےسلسلےمیں نویں،دسویں،گیارہویں اور بارہویں جماعت کےسرکاری تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم طلباوطالبات کےانرولمنٹ اور امتحانی فیسوں کی مدمیں 2ہزارملین روپےمختص کیے تھے جس کی پہلی قسط ایک ہزارملین روپےجاری کردیئےگئے۔
یہ رقم تعلیمی بورڈزمیں زیرتعلیم طلبا و طالبات کی انرولمنٹ کی شرح کےحساب سےتقسیم کردی گئی،صوبائی حکومت نےانٹرمیڈیٹ تک مفت تعلیم پروجیکٹ کی مدمیں سرکاری تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم طلباو طالبات کی انرولمنٹ فیس،امتحانی فیس،داخلہ فیس،درسی کتب کی ذمہ داری اپنےاوپرلےلی ہےاورتعلیمی بورڈزوکالجزکوداخلہ فیس،انرولمنٹ فیس اورامتحانی فیس امیدواروں سےنہ لینےکاحکم دیدیاہے،درسی کتب بھی صوبائی حکومت مفت فراہم کررہی ہے،اس سلسلےمیں بورڈآف انٹر میڈیٹ ایجوکیشن کراچی کو 284743339روپےملے ہیں،بورڈآف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی کو 77171990روپےملے ہیں،بورڈآف انٹرمیڈیٹ اینڈسیکنڈری ایجوکیشن حیدرآباد187358546 روپے،بورڈآف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سکھر81982970 روپے،بورڈ آف انٹر میڈیٹ ایندسیکنڈری ایجوکیشن لاڑکانہ 166371250روپے،بورڈآف انٹرمیدیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میرپورخاص 136972840 روپے،بورڈآف انٹرمیڈیٹ اینڈسیکنڈری ایجوکیشن شہیدبےنظیر آبادکو 65399065 روپےملے ہیں۔
ذرائع کےمطابق تعلیمی بورڈزکےانرولمنٹ اورامتحانی فیسوں کی مدمیں صوبائی حکومت پر 2021سےقبل کے تقریبا 2000ملین روپےواجب الاداہیں،جو سابق سیکریتریز بورزاینڈجامعات کےادوارمیں مختلف وجوہات کے بناپرجاری نہیں ہوسکے تھے،ذرائع کاکہنا ہےکہ سیشن2022/23کے باقی ماندہ ایک ہزارملین روپے بھی جلدجاری کردیئےجائیں گے،بعض تعلیمی بورڈزکےپاس تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے بھی رقم نہیں تھی جس کی وجہ سے صوبائی سیکریٹری بورڈزو جامعات محمد مریدراحموں نےذاتی دلچسپی لیتے ہوئےایک ہزارملین روپےکےاجرامیں اہم کرداراداکیا ہے۔