روالپنڈی: تین پولیس اہلکاروں کے گینگ ریپ کا شکار خاتون عدالت پہنچ گئی
راولپنڈی کے تین پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد کے گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی ظلم کی شکار خاتون رافعہ سامنے آگئیں۔
چند روز قبل تھانہ راوت کے تین پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد نے سحری کے لیے دوستوں کے ہمراہ نکلنے والی رافعہ کو کار سوار افراد نے سڑک کنارے اٹھایا اور اُس کے ساتھ کی دوستوں کو فوری بھارگ جانے کی ہدایت کی۔
رافعہ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے سڑک کنارے کھڑی گاڑی میں اُس کے ساتھ باری باری زیادتی کی اور اُس کو بلیک میل کرنے کے لیے ویڈیو بھی بنائی تھی۔
اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون رافعہ کا دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرادیا۔ اپنے بیان میں ۲۲ سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ وہ وقوعہ کے روز سٹیچو لبرٹی دوست کے ساتھ سحری کے لئے آئی تھی کہ چار پولیس کانسٹیبلز نصیر، راشد منہاس، عظیم اور عامر نے گن پوائنٹ پراپنی سفید گاڑی میں بٹھالیا اورجبری زیادتی کا نشانہ بنایا بعد ازاں ہاسٹل کے باہر چھوڑ کر بھاگ گئے۔
بیان ریکارڈ کرانے سے قبل متاثرہ خاتون نے ایکسپریس سے گفتگو میں انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تعاون کر رہی ہے، کیس میں راضی نامہ نہیں کروں گی، میرے ساتھ ظلم ہوا،صرف انصاف چاہتی ہوں۔
راولپنڈی: تین پولیس اہلکاروں کی 22 سالہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی
دوسری جانب عدالت نے چاروں ملزمان کا مزید 4 روز کا جسمانی ریمانڈ دے کر ملزمان کو 28 مئی کوپیش کرنے کاحکم دیا ہے۔

