علی رضا عابدی قتل کیس میں ایک اور اہم پیشرفت کا دعویٰ

علی رضا عابدی قتل کیس کرنے والی تحقیقاتی کمیٹی نے عدالت میں چالان پیش کردیا جس میں بتایا گیا کہ قتل کے عوض ملزمان کو 8 لاکھ روپے دیے گئے۔

کراچی: تفتیشی پولیس افسر کی جانب سے پیش کئے چالان میں کہا گیا ہے کہ ایم کیوایم کے رہنما سابق ایم این اے علی رضا عابدی کو قتل کرنے کیلئے ملزمان کو 8 لاکھ روپے کی رقم دی گئی۔ 

ایم کیو ایم کے رہنما علی رضا عابدی کے قتل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ، کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سابق ایم این اے علی رضا عابدی قتل کیس کی سماعت ہوئی، جس میں تفتیشی افسر نے عدالت کے سامنے چالان پیش کیا۔

چالان کے متن میں بتایا گیا ہے کہ علی رضا عابدی کے قتل میں ملوث 4 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن کی شناخت محمد فاروق، محمد غزالی، ابوبکر اور عبدالحسیب کے ناموں سے ہوئی جبکہ دو ملزمان حسنین، غلام مصطفی عرف کالی چرن اور بلال مفرور ہیں۔تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مفرور ملزمان کی تصاویر حاصل کرلیں، مفرور ملزمان نو عمر اور کمسن دکھائی دیتے ہیں۔

چالان کے متن کے مطابق ایم کیوایم کے رہنما اور سابق ایم این اے علی رضا عابدی کے قتل کے لئے ملزمان کو 8 لاکھ روپے کی رقم دی گئی، رقم کی ادائیگی حسینی بلڈنگ کے پاس نامعلوم شخص نے کی، علی رضا عابدی کے قتل میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل کو کارروائی کے بعد جلا دیا گیا تھا تاکہ کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔

https://zaraye.com/ali-raza-abidi-mother-and-friends-demand/

عدالت نے مفرورملزمان حسنین، غلام مصطفی عرف کالی چرن اور بلال کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں اشتہاری قرار دیا اور ہدایت کی کہ مفرور ملزمان کو آئندہ سماعت پر گرفتار کرکے ہر صورت پیش کیا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس 25 دسمبر کو ایم کیو ایم کے رہنما علی رضا عابدی کو ان کی رہائش گاہ خیابان غازی کے باہر نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے زخمی کردیا تھا، انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔

https://zaraye.com/ali-raza-abidi-mother-important-presser/