سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں بڑی پیشرفت، اہم ترین گواہ منظر عام 7 سال بعد پر آگیا، عدالت میں پیش
سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں اہم پیشرفت ہوئی، عینی شاہد اور اہم ترین گواہ نے ملزم کو شناخت کرلیا۔
کراچی کے علاقے بلدیہ فیکٹری میں لگنے والی آگ کے مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوئی، جس کے دوران اہم ترین گواہ کو سخت سیکیورٹی میں پیش کیا گیا۔
اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ نے مقدمے کے چشم دید گواہ کو عدالت میں پیش کیا۔ سیکیورٹی خدشات کی بنا پر گواہ کا نام صیغہ راز میں رکھا گیا تھا جو اپنی جان بچانے کی غرض سے روپوش تھا۔
تفتیشی افسر نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ ملزم کی جان کو خطرات لاحق تھے جس کے باعث وہ روپوش تھا، اہم ترین عینی شاہد کا نام سامنے نہیں لایا جاسکتا، مجسٹریٹ کے سامنے زبیر عرف چریا کی آنکھوں پر پٹی بندی تھی جسے گواہ نے شناخت کیا۔
عینی شاہد نے عدالت میں گواہی دی کہ واقعہ پیش آنے والے روز وہ فیکٹری میں موجود تھا، میں نے دیکھا زبیر چریا نے پہلے اپنے ساتھیوں کے ساتھ گودام کے واش روم کے باہر چرس پی اس کے بعد میرے سامنے اپنی جیب سے تھیلیاں نکال کر گودام میں موجود کپڑوں پر پھینکیں۔
اُس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہی عمل دوسری منزل پر بھی کیا گیا، آگ جیسے جیسے شدت اختیار کررہی تھی زیبر کے منہ پر مسکراہٹ بکھر رہی تھی، اہم ترین گواہ نے عدالت سے سیکیورٹی کی ضمانت مانگتے ہوئے پیش کش کی کہ وہ زبیر کے دیگر ساتھیوں کی شناخت بھی کرسکتا ہے۔
سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں گرفتار ملزمان زبیر چریا اور عبد الرحمان عرف بھولا کے وکیل نے عینی شاہد کے بیان پر جرح کرتے ہوئے پوچھا کہ سانحہ کے اتنے عرصے بعد بیان کیوں قلمبند کرایا؟
گوہ نے بتایا کہ مجھے جان کا خطرہ تھا اس لیئے پنجاب چلا گیا تھا اب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے بلا کر تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہے اسلیے واپس آکر بیان دیا اور منظر عام پر آگیا۔
بعدازاں ملزمان کے وکلا کے عینی شاہد کے بیان پر جرح مکمل کرنے کے بعد عدالت نے آئندہ سماعت پر بیان کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کو نوٹس جاری کردیے۔
اس کے ساتھ عدالت نے مزید کارروائی 3 اپریل تک کے لیے ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاون میں واقع ٹیکسٹائل فیکٹری میں 11 ستمبر 2012 کو آگ لگے کا واقعہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے، اس مقدمے میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما رؤف صدیقی، عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا سمیت 11 ملزمان نامزد ہیں۔
پروسیکیوشن کے مطابق مشتبہ ملزمان نے اس وقت کے ایم کیو ایم کی کراچی میں تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کی ہدایات پر عمل کیا کیونکہ فیکٹری کے مالکان نے بھتے کی رقم کی ادائیگی سے انکار کردیا تھا۔

