نیپالی نوجوان، غلطی علامہ صاحب کی نہیں۔۔۔ تحریر: عمیر دبیر

محرم الحرام کا چاند نظر آنے کے بعد شہدا کربلا کی یاد میں مختلف مقامات پر تعزیتی مجالس منعقد کی جاتی ہیں جن میں بالخصوص فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے علماء، ذاکر اور علامہ مصائب و فضیلت و واقعات بیان کرتے ہیں۔

گریاں اور سینہ کوبی کے لیے جمع ہونے والے عزادار وں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے پسندیدہ ذاکر یا علامہ کی مجلس پورے عشرے یعنی شامِ غریباں تک سنیں۔

ایک وقت تھا جب کراچی میں طالب جوہری کا سکہ چمکتا تھا، بالخصوص محرم کے ابتدائی 10 روز اُن کے پاس سونے تک کا وقت نہیں ہوتا تھا، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو فلسفہ علامہ طالب جوہری صاحب بیان کرتے ویسا اب تک کسی کو بیان کرتے نہیں دیکھا۔

وقت بدلتا گیا، دیگر ذاکرین آئے، کچھ اشتعال انگیز  اور نفرت انگیز تبرہ کی وجہ سے مخصوص سوچ کے شیعوں میں منفرد مقام رکھنے لگے تو کچھ نے ٹھنڈا لہجہ اختیار کر کے رات گیارہ والی مجالس میں اپنی جگہ پکی کی۔

اس بات کو یہی روکتے ہوئے یہاں ایک معاملے کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا، پہلے جب محرم الحرام کا چاند نظر آتا تھا تو ہمارے پڑوسی جو شیعہ تھے اُن کے گھر پر سوگ طاری ہوجاتا تھا اور وہ واقعی سوگ ہی لگتا تھا، کوئی خاص اہتمام نہیں کرتے تھے اور نہ ہی مجلس و جلوس کے لیے کسی پڑوسی کو تکلیف دیتے تھے۔

پھر وقت تیزی سے گزرا ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جن کے والدین محرم کی آمد پر خاموشی سے سوگ کی چادر اپنے اوپر اوڑھ لیتے تھے اُن کی اولادیں عید الضحیٰ ختم ہونے کے بعد محرم کی خصوصی تیاری میں مصروف ہوگئی اور نئے کالے کپڑے بنائے، لڑکیوں نے کپڑوں پر لیسیں (بیلیں) لگوائی کالی کڑھائی کے کام بنوائے۔

یہ کوئی ایک گھر یا شخص کی بات نہیں، ہم سب نے دیکھا کہ آہستہ آہستہ غم حسین میں خودنمائی شامل ہوتی چلی گئی، اب نوجوان تعزیے، تابوت، ذوالجناح کے ساتھ کھڑے ہوکر جب تک سیلفی نہیں بناتے یا مجلس لائیو نہیں کرتے وہ اس غم کو ادھورا سمجھتے ہیں۔ بزرگ کہتے ہیں کہ جن چیزوں میں خود نمائی آجائے پھر اُس میں سے  دھیرے دھیرے اخلاص ختم ہوجاتا ہے ، ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ عمل ریاکاری میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

موضوع کی طرف لوٹتے ہیں کہ جیسی مجالس ہم نے بچپن میں سنی وہ اب ذاکرین کی کثیر تعداد ہونے کے باوجود سننے کو نہیں ملتیں،  اس کی کیا وجہ ہے یہ تو معلوم نہیں ہاں مگر ایڈوانس بکنگ اور ہدیہ کا عمل دخل کچھ حد تک ممکن ہوسکتا ہے جو میرا ذاتی خیال ہے۔

ہر ذاکر اپنے منفرد انداز سے سامعین کے ذہنوں پر ایسے نقوش بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ اس میں گم ہوجائیں، بس آواز سنائی دے اور منظر کربلا کے میدان کا ہی ہو، مگر ایسا بہت کم ہی ذاکر کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، چاہیے کوئی بھی علامہ صاحب ہو وہ منفرد انداز سے کبھی پیر پٹخ کر تو کبھی ممبر سے کچھ اونچا اچھل کر لوگوں کی توجہ اپنی طرف کرواتے ہیں۔

ذاکرین میں سے ایک نام ایسا بھی ہے جس کے سامعین کی تعداد ہر سال بڑھتی نظر آتی ہے، جی ہاں میں بات کررہا ہوں علامہ ضمیر اختر نقوی کی جن کا نیپال والا واقعہ ، نیپولین کا خط اور ذوالجناح کا مطلب سمیت دیگر کئی متنازع ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ علامہ صاحب بہت اچھی گفتگو کرتے ہیں، آپ اُن سے مجالس اور محرم کے علاوہ ملاقات کریں تو وہ بہت ہی بڑی علمی شخصیت ہیں اور اُن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ سامنے والے کو دیکھ کر اُسی کا انداز اختیار کرلیتے ہیں، بچے کے ساتھ بچہ ، پروفیسر کے ساتھ پروفیسر اور شاعر و ادیب کے ساتھ وہی والا طرز

علامہ صاحب نے نیپال کا جو واقعہ سنایا اُس میں اُن کی اتنی بڑی غلطی نہیں جتنی بنائی جارہی ہے، ایسے تو کئی واقعات ہیں جو مجالس میں سنائے جاچکے ہاں مگر کوئی بھی ضمیر اختر نقوی والا ٹھنڈا، ٹھہراؤ والا انداز اختیار نہ کرسکا، کسی نے چیخ کر بہت کچھ کہا تو کچھ اچھل کود کر کے سب کہہ گئے۔

موضوع سمیٹتے ہوئے بس اتنا سا عرض کروں گا کہ جب عمل میں خودنمائی شامل ہوجائے، جلوس اور مجالس کی سیلفی کو لازمی سمجھا جانے لگے تو اس طرح کی باتیں سامنے آنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔