بانی ایم کیو ایم کو لندن پراپرٹی کیس میں شکست کیوں ہوئی؟ وکیل نے سب بتادیا

خدمت خلق فاؤنڈیشن کی لندن میں موجود پراپرٹی کیس میں بانی ایم کیو ایم کے وکیل بیرسٹر نذر محمد نے کہا ہے کہ 23 اگست 2016 کو الطاف حسین نے اپنے تمام اختیارات رابطہ کمیٹی کے سپرد کردیے تھے اور یہی ان کی شکست کی بڑی وجہ بنا۔

کینیڈا کے اے ون ٹی وی کے میزبان اور صحافی انیس فاروقی کو دیے گئے انٹرویو میں بیرسٹر نذر محمد نے کیس میں شکست کے بعد پہلی بار کسی بھی میڈیا سے تفصیلی بات کی اور کیس میں شکست، غلطیوں سمیت برطانوی قوانین کی خلاف ورزیوں کے حوالے سےبات کی۔

انہوں نے دس ملین پاؤنڈ کے حوالے سے عدالت کی جانب سے عائد کیے جانے والے ہرجانہ، کرائے کی رقم اور گھر سے بے دخل ہونے کے حوالے سے سوالات کے جوابات دیے۔

بیرسٹر نذر نے بتایا کہ الطاف حسین کا کہنا تھا کہ وہ ایم کیو ایم کے باپ اور بانی ہیں اور وہ ہی ایم کیو ایم ہیں، ان کے علاوہ کوئی ایم کیو ایم نہیں ہے، جج نے اس بات اور دعوے کو مسترد کیا۔

انہوں نے کہا کہ شواہد موجود ہیں کہ الطاف حسین نے 2015 میں متعدد بار پارٹی کی قیادت چھوڑی اور بائیس اگست 2016 کو جب اشتعال انگیز تقریر کی تو اُس کے اگلے روز انہوں نے اپنے تمام اختیارات پاکستان میں موجود رابطہ کمیٹی کے سپرد کیے۔

بیرسٹر نذر کے مطابق جج نے یہ سن کر کہا کہ آپ کی پوزیشن ختم ہوگئی ہے کیونکہ آپ نے رضاکارانہ طور پر قیادت خود ہی چھوڑی تھی اور یہی اُن کی کیس میں شکست کی بڑی وجہ تھی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 16 ستمبر 2016 کو بانی ایم کیو ایم نے عہدے سے استعفیٰ دیا جسے عدالت نے تسلیم کرلیا اور پھر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے بھی اُن کی واپسی کو تسلیم نہیں کیا۔ جبکہ فاروق ستار نے پارٹی آئین کے تحت بطور سربراہ 31 اگست کو رابطہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے الطاف حسین کو پارٹی کی سپر پاور سے ہٹایا اور رکنیت ختم کی اور آئین میں واضح اکثریت سے ترمیم کر کے پارٹی کا نام ایم کیو ایم پاکستان کیا اور الطاف حسین کا نام قانونی طور پر پرچوں، قانون سے ختم کردیا۔

پھر سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم اراکین نے قرارداد پیش کی جس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں موجود لوگ ہی اصل ایم کیو ایم ہے۔ جبکہ 2012 میں پارٹی آئین میں یہ شق بھی شامل کی گئی کہ بانی ایم کیو ایم کی توثیق ہنگامی صورت میں درکار ہوگی۔

بیرسٹر نذر کے مطابق رابطہ کمیٹی نے 2016 میں پارٹی آئین کی شق نائن بی میں ترمیم کی اور بانی ایم کیو ایم سے سارے اختیارات واپس لے لیے اور الطاف حسین نے خود 23 اگست 2016 کو اپنے ہاتھ سے لکھ سارے اختیارات دے کر رابطہ کمیٹی کو اس بات کا حق بھی دیا، جس کے بعد رابطہ کمیٹی نے قانون میں ترمیم کی کیونکہ اجازت کے بعد انہیں اختیار حاصل ہوگیا تھا اور اس کے بعد آئینی طور پر الطاف حسین کی اہمیت ختم ہوگئی تھیاور پھر 16 ستمبر 2016 تک انہوں نے اپنے اختیارات واپس بھی نہیں لیے تھے۔

اس بنیاد پر جج نے آئین کا مطالعہ کر کے فاروق ستار کے حق میں فیصلہ دیا اور ان کے اقدامات کو درست قرار دیا اور 31 اگست سے 16 ستمبر تک بننے والی پارٹی یعنی ایم کیو ایم پاکستان کو تسلیم بھی کیا۔

پراپرٹی کیس میں بانی ایم کیو ایم کے وکیل نے انکشاف کیا کہ الطاف حسین ایک پراپرٹی کے مالک ہیں، جسے انہوں نے خفیہ رکھا تاہم جب بات سامنے آئی تو بھروسہ کم ہوگیا جبکہ ایم کیو ایم کی تمام جائیداد، پراپرٹی اور فنڈنگ پر الطاف حسین اپنا اختیار برقرار رکھنا چاہتے تھے۔

بیرسٹر نذر نے کہا کہ الطاف حسین کی جانب سے پیش ہونے والے وکلا برطانیہ کی عدالت کے جج کے سامنے کہا کہ ’میں سب سے اہم اور قانون سے بھی اوپر ہوں‘۔

انٹرویو میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ بانی ایم کیو ایم کی پارٹی کی رکنیت نہیں تھی کیونکہ وہ اعلی عہدے پر تھے۔

بیرسٹر نذر نے کیس ہارنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ لندن قیادت کی جانب سے کمزور شہادتیں، گواہان کا قانونی دلائل کے علاؤہ بانی ایم کیو ایم کے گن گانا تھا جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے وکیل سارے شواہد اور بھرپور تیاری کے ساتھ عدالت میں آئے اور کیس کا فیصلہ ان کے حق میں آیا۔

نذر محمد کے مطابق لندن ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر جانے کے بعد اگر کیس ہار گئے تو ناکامی کی صورت میں 1 کروڑ پاؤنڈ تک کا جرمانہ عائد ہوگا جو نہ صرف ٹرسٹ کے ڈائریکٹر لز کی ذمہ داری ہوگا بلکہ عدالت جائداد فروخت کر کے بھی اس سے پیسے وصول کرسکتی ہے۔