کیا سندھ حکومت چور، ڈاکوئوں سے بھی کمیشن لے رہی ہے ؟ ایم کیوایم پاکستان
کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ حکومت، پولیس قیام امن میں ناکام ہوچکی، شہری یومیہ لاکھوں روپے مالیت کی املاک سے محروم ہورہے، 3 ماہ میں ریکارڈ وارداتیں ہوئیں، ڈکیتی مزاحمت پر 34 شہری قتل بھی ہوئے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے، شہر کو اندرون سندھ کے پولیس افسران کے حوالے کردینا مجرمانہ غفلت ہے، متعصب حکومت نے شہر کو راہزنوں کی آمجگاہ بنادیا۔
رابطہ کمیٹی نے کہاکہ کیا سندھ حکومت اب چور، ڈکیتوں سے بھی کمیشن لے رہی ہے؟ وزیراعظم، چیف جسٹس پاکستان اور گورنر سندھ سے درخواست ہے کہ شہر میں اسٹریٹ کرائم پر ایکشن لیا جائے اور شہریوں کو ذہنی اذیت سے نجات دلائی جائے۔
ادھر کراچی کارپٹ، کرٹن اینڈ فرنیچر گروپ اور گلشن اقبال مرچنٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام افطارڈنر میں ایک بیان میں متحدہ پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہےکہ اہلیان کراچی اسٹریٹ کرائم سے شدید پریشان ہیں، سیاسی جماعتیں اور تاجر برادری متحد ہوکر جدوجہد کریں، جس انداز سے کراچی کی آبادی کو شمار کیا گیا، وہ 40 فیصد جبکہ 60 فیصد آبادی کو نظر انداز کردیا گیا، کراچی کارپٹ کرٹن اینڈ فرنیچر گروپ کے صدر مرزا صادق بیگ نے مہمانوں کا استقبال کیا۔
اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنما عالمگیر خان، تاجر رہنما عتیق میر، جمیل احمد پراچہ و دیگر بھی موجود تھے۔

