کے ڈی اے، ملازمین فاقہ کشی پر مجبور، ایکشن کمیٹی میدان میں آگئی، حکومت کے خلاف دھرنے کا عندیہ
تما م یونینز ملازمین کو فاقہ کشی سے بچانے اورادارے کو مالی بحران سے نکالنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئی۔ کے ڈی اے ملازمین کی جو حالت ہے اسکی ذمہ دار پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت ہے اگر لیبر یونین نے پیپلز پارٹی سے اتحاد کیا ہے تو لیبر یونین حکو مت سندھ سے کے ڈی اے کے تمام واجبات دلائیں(محمد عبدالمعروف)، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ،ماسٹر پلان ادارہ ترقیات کراچی کے 80کروڑ کے واجبات دس دن کے اندر جمع کرائیں بصورت دیگرایس بی سی اے اور ماسٹر پلان پر دھرنا ہوگا(سید عمران جعفری)، ادارے کو ایک سازش کے تحت تقسیم در تقسیم کردیا گیا ہے(عبدالمتین وحید )
کراچی (اسٹاف رپورٹ ) سوک سنٹر پہلی منزل پر ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا احتجاج سے ایکشن کمیٹی کے ممبران محمدعبدالمعرف، سید عمران جعفری، عبدالمتین وحید، اور عزیز نے خطاب کیا۔۔نظامت کے فرائض طاہر جاوید نے انجام دیئے اس موقع پر کے ڈی اے ملازمین کی بڑی تعداد موجود تھی محمد عبدالمعرف نے اپنے خطاب میں کہا کہ کے ڈی اے ملازمین کی جو حالت ہے اسکی ذمہ دار پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت ہے اگر لیبر یونین نے پیپلز پارٹی سے اتحاد کیا ہے تو لیبر یونین حکو مت سندھ سے کے ڈی اے کے تمام واجبات دلائیں۔ تما م یونینز ملازمین کو فاقہ کشی سے بچانے اورادارے کو مالی بحران سے نکالنے کے لئے
یونینزایکشن کمیٹی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئی ہیں اس موقع پر سید عمران جعفری نے کہاکہ ایس بی سی اے اورماسٹر پلان کے ڈی اے کو 80کڑوڑ کے واجبات دس دن کے اندر جمع کرادیں ورنہ ایس بی سی اے اور ماسٹر پلان پر دھرنا ہوگا عبدالمتین وحید نے کہا کہ ادارے کو ایک سازش کے تحت تقسیم در تقسیم کردیا ایکشن کمیٹی کے ممبران نے حکومت سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ اور وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ سے مطالبہ کیا کہ ایس بی سی اے اور ماسٹر پلان کے ڈی اے کو واپس کئے جائیں تاکہ کے ڈی اے بدترین مالی بحران سے نکل جائے ایکشن کمیٹی نے وزیربلدیات سے مطالبہ کیا کہ ہماری گرا نٹ20کڑوڑ سے بڑ ھا کر30 کروڑ کی جائے احتجاجی مظاہرےکےاختتام پر دلاور خان نے دعا کی۔

