عمران فاروق قتل کیس، ملزمان کی رہائی کے امکانات مزید روشن، عدالت نے ٹرائل روک دیا

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی کی عدالت میں عمران فاروق قتل کیس کی عدالتی کارروائی پر حکم امتناعی جاری کردیا۔

نمائندے کے مطابق چیف جسٹس اطہر من اللہ اورجسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس میں حکم امتناعی جاری کرنے کی درخواست کی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل انورمنصورذاتی حیثیت میں جب کہ ایف آئی اے کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرخواجہ امتیازاوربرطانوی ہائی کمیشن کے نمائندے بھی عدالت پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے نے ٹرائل کورٹ سے برطانیہ میں شواہد اکٹھے کرنے کے لیے دوماہ کا وقت مانگا تھا لیکن ٹرائل کورٹ نے درخواست مسترد کردی۔

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس: ’’20 جون کے بعد تینوں باعزت رہائی پائیں گے‘‘

عدالت نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کیے اور انہیں مزید کارروائی سے روک دیا۔ دورانِ سماعت اٹارنی جنرل انور منصور ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے، یاد رہے کہ ایف آئی اے کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز عدالت میں پٹیش نےدائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 30مئی کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، اور برطانیہ سے شواہد جمع کرنے کے لیے دو ماہ کا مزید وقت دیا جائے۔

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار ملزمان معظم علی،سید محسن،خالد شمیم اورانسداد دہشت گردی عدالت درخواست میں فریق تھے، انسداد دہشتگردی عدالت نے ایف آئی اے کی درخواست 30 مئی کو مسترد کی تھی۔ یاد رہے کہ انسداد دہشتگردی عدالت نے ایف آئی اے سے 20 جون کو حتمی دلائل طلب کررکھے ہیں۔

بعد ازاں اٹارنی جنرل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کی برطانیہ سے شواہد اکٹھے کرنے کی درخواست ٹرائل کورٹ نے مسترد کی، ایف آئی اے نے شواہد جمع کرنے کے لیے دو ماہ کا مزید وقت مانگا تھا۔