بارکھان واقعہ، پولیس کا کھیتران کے گھر چھاپہ، ’کابینہ سے برطرف نہیں کیا‘
بلوچستان پولیس نے بارکھان واقعے کے بعد صوبائی وزیر مواصلات اور تعمیرات سردار عبدالرحمان کھیتران کے گھر پر چھاپہ مارا ہے۔
پولیس نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ عبد الرحمان کھیتران کے کوئٹہ میں قائم گھر پر پانچ بچوں کی بازیابی کیلیے چھاپہ مارا گیا ہے، جس میں اہلکاروں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔
چھاپے کے دوران پولیس کیمرہ اور خواتین اہلکار بھی موجود تھیں جنہوں نے مہمان خانے، رہائش گاہ اور گھر کے دیگر حصوں کی جامع تلاشی لی۔
پولیس کی جانب سے خان محمد مری کے 5 بچوں کی بازیابی کیلئے چھاپہ مارا گیا۔
چھاپے کے دوران پولیس نے عبدالرحمان کیتھران کے گھر کی طرف جانے والی تمام سڑکیں اور راستے سیل کردیے تھے۔
واضح رہے کہ ایک خاتون کی گزشتہ دنوں ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ صوبائی وزیر کھیتران کے نجی عقوبت خانے میں ہیں اور اُن کے ساتھ اُن کی بیٹیاں اور بیٹے بھی یہیں قید ہیں۔ خاتون کی ویڈیو وائرل ہونے کے دو روز بعد آج اُن کی اور دو بچوں کی لاشیں کنویں سے برآمد ہوئیں۔
مری قبائل نے نماز جنازہ پڑھنے کے بعد لاشیں کوئٹہ پہنچا دی احتجاج شروع#بلوچ_خاتون_کو_انصاف_دو pic.twitter.com/1NGq583kUy
— Noor Kakar🇵🇰 (@KaKaR_101) February 21, 2023
خاتون کی لاش برآمد ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے شدید احتجاج کیا اور #قاتل_سردار_کوگرفتارکرو / #بلوچ_خاتون_کو_انصاف_دو ہیش ٹیگ چلائے جو دیکھتے ہی دیکھتے ٹاپ ٹرینڈ میں شامل ہوگئے۔ سوشل میڈیا پر احتجاج اور نماز جنازہ میں شرکت کے بعد مری قبائل سمیت دیگر ہزاروں بلوچوں نے دھرنا دیا جس کے دھرنے کے بعد صوبائی حکومت نے واقعے کا نوٹس لیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے واقعے کی تحقیقات کیلیے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی قائم کی اور ڈی آئی جی لورالائی ڈویژن کو اس کا سربراہ مقرر کیا، کمیٹی میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن کوئٹہ اور اسپیشل برانچ بارکھان کا نمائندہ شامل ہے۔ پانچ رکنی جے آئی ٹی 30 دنوں میں اپنی رپورٹ مرتب کرکے پیش کرے گی، ٹیم کسی کو بھی اپنا ممبر نامزد کرسکتی ہے۔
بلوچستان کوئٹہ پولیس بارکھان واقع میں بے گناہ شہیدوں کو اسپتال جانے نہیں دیتے تاکہ پوسٹ مارٹم نہ ہو
آخر یہ ظلم کب تک چلے گا ہمارے ادارے نوٹس کیوں نہیں لیتے ہمارے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا خاموش کیوں ہیں#بلوچ_خاتون_کو_انصاف_دو pic.twitter.com/2PU54qzamr— Noor Kakar🇵🇰 (@KaKaR_101) February 21, 2023
صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر ہم نے جے آئی ٹی تشکیل دی ہے، واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں گے۔واقعے سے قبل تمام کمشنرز کو نجی جیلوں سے متعلق مفصل رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایات جاری کی تھی، کمشنرز نے کہیں بھی کسی قسم کی نجی جیل کی نشاندہی نہیں کی تھی۔
قبل ازیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بارکھان واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ داخلہ کو واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ متاثرہ خاندان کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بھی بارکھان واقعے کی گونج رہی اور صوبائی وزیر اسد بلوچ نے کہا کہ بارکھان واقعے کی مذمت کرتا ہوں، پہلے سردارایماندارتھے ، اب نہیں رہے۔ علاوہ ازیں رکن اسمبلی نصیر شاہوانی نے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا اور نصیب اللہ مری نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ جوڈیشل کمیشن بنائیں، حکومت خاتون کے دیگر بچوں کو بھی بازیاب کرائے۔
کوہلو ے مری قبائل کوئٹہ کے ریڈ زون میں داخل جب عدالتیں خاموش ہو تو عوام خود نکل آتی ہے۔۔۔!!!#بلوچ_خاتون_کو_انصاف_دو pic.twitter.com/CtAZoiB7xZ
— Muhammad Shahmeer Khan (@MSK_Offiicial) February 21, 2023
قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈوکیٹ نے کہا کہ خاتون اور اسکے بچوں کو قتل کرناقابل مذمت ہے، اس واقعہ پر سب آوازبلند کریں ،ملزمان کو سزا ملنی چاہیے۔ ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ ’یہ بلوچستان میں پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی ایسے معاملات ہوچکے ہیں، معاشرے میں عورت کا مقام قابل احترام رہا ہے، اس واقعہ ہے پر پورے بلوچستان کے لوگ افسردہ ہیں، ایسے واقعات سے بلوچستان کا مسخ شدہ چہرہ سامنے آرہا ہے، جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بناکر اس کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں۔
کیتھران کو کابینہ سے برطرف نہیں کیا
واقعے کے بعد یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ مذکورہ وزیر کو کابینہ سے برطرف کردیا گیا ہے جس پر بلوچستان حکومت کی ترجمان فرح عظیم نے بتایا کہ تحقیقات مکمل ہونے پر بارکھان واقعے کے حقائق سامنے آئیں گے، ابھی وہ کابینہ کا حصہ ہیں اور جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں کام کرتے رہیں گے۔
https://twitter.com/Stify_stuff/status/1628079303626829834?s=20

