اے آر وائی نیوز سمیت دیگر نشریاتی اداروں نے نے دعویٰ کیا کہ محسن داوڑ کو سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کرلیا، اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی جس میں بتایا گیا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے محسن داوڑ کے گھر پر چھاپہ مارا۔
یاد رہے کہ وزیرستان تنازع شروع ہونے کے بعد سے اے آر وائی، بول نیوز سمیت دیگر چند چینل یکطرفہ مؤقف چلا رہے ہیں جس کی وجہ سے شدید تذبذب بھی پایا جاتا ہے۔
صحافتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اے آر وائی کی انتظامیہ کسی کو خوش کرنے کے لیے یہ سب کچھ کررہی ہے، جس کو خوش کرنے کی کوشش ہے اُس کا نام لیا جانہیں سکتا اور ہر کامیابی پر اُسی کے گُن گائے جاتے ہیں۔
https://zaraye.com/9733/
اے آر وائی کی ایک اور خبر جعلی نکلی کیونکہ پی ٹی ایم قیادت نے محسن داوڑ کی گرفتاری کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بنوں کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں خوش پیش ہوئے تاکہ قانون کی پاسداری کرسکیں۔
قبائلی جرگے کے رکن نصراللہ نے تصدیق کی کہ محسن داوڑ اپنی مرضی سے عدالت میں پیش ہونے کے لیے بنوں پہنچے، انہوں نے قبائلی جرگے کے فیصلے پر مقامی انتظامیہ اور سرکار کی جانب سے معافی مانگنے ’’نندواتے‘‘ کی تصدیق بھی کی۔
https://zaraye.com/9744/
- اس بات کی تصدیق صحافی عدنان باطنی نے کی کہ محسن داوڑ کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ صحافی فیض اللہ خان نے بتایا کہ قبائلی جرگے، انتظامیہ اور فوج کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے جس کے بعد داوڑ نے خود کو حوالے کیا۔
محسن داوڑ بنو پہنچ گئے اور قبایلی جرگے کے رکن ملک نصراللہ نے بتایا کہ کوئی گرفتاری نہیں ہوئی محسن داوڑ اپنے مرضی سے عدالت میں پیش ہوا انہوں نے ننواتے کی بھی تصدیق کی
— Adnan Bitani (@AdnanBitani) May 30, 2019