کراچی سرکلر ریلوے بحالی، دودھ پیتی بچی کی ماں مکان ٹوٹنے کے غم میں دنیا سے رخصت

کراچی سرکلر ریلوے کے آپریشن میں گھر مسمار ہونے کے غم میں خاتون انتقال کرگئیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے آپریشن شہر کے مختلف ڈسٹرکٹس میں جاری ہے، اس حوالے سے غریب آباد اور مجاہد کالونی میں سیکڑوں گھر اجاڑ دیے گئے۔

چھ ماہ کی دودھ پیتی بچی کی والدہ نگینہ بی بی بھی اُن متاثرین میں شامل ہیں جن کا گھر کل توڑ دیا جائے گا، مرحومہ مکانات کی بحالی اور حقوق کے لیے جدوجہد میں صفِ اول کا کردار ادا کررہی تھیں مگر آج دوسروں کو ہمت کا درس دینے والی نگینہ خود زندگی کی بازی ہار گئیں۔

خاتون کے تین بچے ہیں جن میں سے سب سے چھوٹی بیٹی چھ ماہ کی ہے، کل شروع ہونے والے آپریشن میں مکان گرنے کی خبر ٹی وی پر سُن کر خاتون شدید پریشان ہوئیں اور اُن کی طبیعت خراب ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق خاتون کو معلوم ہوا کہ کمشنر سے ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے جس کے بعد اُن کی طبیعت بہت زیادہ بگڑی اور وہ ذہنی دباؤ کے باعث جہانِ فانی سے کوچ کرگئیں۔

کراچی بچاؤ تحریک : بے گھر افراد کا کل ریگل تا پریس کلب ریلی کا اعلان

غریب آباد کے علاقے کے متاثرین نے احتجاجی کیمپ لگایا ہوا ہے جہاں وہ اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کروارہے ہیں، نگینہ بی بی گزشتہ کئی روز سے متحرک تھیں مگر اب کے بعد وہ کوئی کردار  ادا نہیں کرسکیں گی۔

ایم کیو ایم پاکستان سمیت کراچی کی کسی بھی سیاسی جماعت نے متاثرین سے اظہار یکجہتی نہیں کیا جبکہ متاثرین کا دعویٰ ہے کہ اُن کے گھر قانونی اور لیز ہیں مگر سرکار کوئی بات سُنے کو تیار نہیں اور نہ ہی انہیں کوئی متبادل رہائش فراہم کی جارہی ہے۔

کراچی سرکلر ریلوے: ’’ہمارا قانونی گھر تھا، لیز تھی پھر بھی توڑ دیا، اب کہاں جائیں‘‘