ایم کیو ایم چاہتے ہوئے بھی حکومتی اتحاد نہیں چھوڑ سکتی، مصطفی کمال

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینئر مصطفی کمال نے کہا ہے کہ، چاہتے ہوئے بھی حکومتی اتحاد نہیں چھوڑ سکتے، وزارتیں چھوڑ بھی دیں تو بھی حکومت کے ساتھ بیٹھنا مجبوری ہے۔

پاکستان ہاؤس میں بلاگرز میٹ اپ کے دوران مصطفی کمال نے متعدد سوالات کے جوابات دیے اور ماضی و مستقبل کے حوالے سے گفتگو کی۔

ایک سوال کے جواب میں مصطفی کمال نے کہا کہ چاہتے ہوئے بھی حکومتی اتحاد نہیں چھوڑ سکتے، اگر وزارت چھوڑ بھی دیں تو بھی مسائل ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے حکومتی اتحاد نہ چھوڑنے کی وجہ ملکی مسائل بتاتے ہوئے کہا کہ ہم علیحدہ ہوکر نیا کوئی مسئلہ کھڑا کرنا نہیں چاہتے اور اب نہ ہمارے اندر اتنی طاقت ہے۔

ایم کیو ایم کو خدشہ ہے کہ اتحاد چھوڑنے کی صورت میں انتقامی کارروائیاں یا سیاسی استحصال کیا جاسکتا ہے اور  بہت زیادہ سخت حالات سمیت مقتدرہ کے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ اگر سب پریشر برداشت بھی کرکے اپوزیشن بنچوں پر گئے تو حکومت ختم ہو جائے گی اور پھر ڈالر 500 روپے سے زیادہ کا ہوجائے گ، جس سے مہنگائی مزید بڑھ جائے گی۔

سینئر ڈپٹی کنوینئر نے کہا کہ ہم اب نوجوانوں اور عوام کو سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرنا سکھائیں گے کیونکہ اس سے ہمارے مسائل حل ہوسکتے ہیں، تین کروڑ کے اس شہر سے مجھے تیس لاکھ سوشل میڈیا والے چاہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مصطفی کمال نے کہا کہ ہم مستقبل میں کسی بھی حکومت کی حمایت کیلیے وزارت کی شرط نہیں رکھیں گے بلکہ بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنے کیلیے آئین کے آرٹیکل 140 اے میں تین ترامیم کروائیں گے، جس کے بعد فنڈز کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور اس سے صرف کراچی نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

پی ایس پی بنانے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان اور رہنماؤں پر تنقید کے حوالے سے مصطفی کمال نے کہا کہ میں نے جو کہا اس کے ایک ایک لفظ کی ذمہ داری آج بھی لیتا ہوں اور قائم ہوں۔

ایم کیو ایم چھوڑنے، پی ایس پی بنانے اور انضمام کیوجہ پیپلزپارٹی تھی کیونکہ یہ لسانی اور تعصبی جماعت ہے، ہم نے قوم کے مشترکہ فائدے کیلیے ہر قسم کی تنقید برداشت کر کے اتحاد کیا تاکہ ووٹ بینک قائم رہے۔ مصطفی کمال نے کہا

ایک اور سوال کے جواب میں مصطفی کمال نے کہا کہ مہاجر اور حق پر وہ ہے جو ہمارے ساتھ ہے، آج بھی کسی اور کے ساتھ کھڑے ہوکر ایم کیو ایم کے نام پر سیاست کرنے والوں اور بانی کے چاہنے والوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے اور ان کے ساتھ اچھا ہورہا ہے۔

قوم کے اتحاد کی خاطر سب کو ساتھ لے کر چلنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘ایک شخص جو مودی سے مدد مانگ رہا ہے، سارے جہاں سے اچھا ہندوستان پڑ رہا ہے اور بھارتی فوجیوں کو شہید کہہ رہا ہے اس کی بات ماننے والوں سے کیسی اور کیوں ہمدردی رکھی جائے جبکہ اب تو سب کچھ سامنے آگیا ہے اور ہم جو دل و جان سے محبت کرتے تھے وہ بھی سب سامنے کے آئے ہیں، ہر چیز کا وقت ہوتا ہے اب انکا وقت ختم ہوگیا’۔

مصطفی کمال نے ایک بار پھر بلاگرز سے اپیل کی کہ وہ ایم کیو ایم پاکستان کے اقدامات کو اجاگر کریں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہماری وجہ سے آج کسی بھی تقریر کے بعد گھروں پر چھاپے نہیں پڑتے اور 15 ہزار لڑکا گھروں پر سوتا ہے۔

صبر کی انتہا ہوگئی، اب ظلم پر مزاحمت کریں گے،مصطفیٰ کمال

ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینئر نے دعوی کیا کہ بانی ایم کیو ایم کی ایماں پر بہادر آباد پر حملہ کیا گیا اور فائرنگ کی گئی، وہ سمجھ رہے تھے پرانی ایم کیو ایم ہے مگر نہیں۔۔ نہیں اب ایم کیو ایم بدل گئی ہے۔

لندن کارکنان کیلیے سخت موقف رکھنے کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اچھا ہے ایسا ہونا چاہیے کیونکہ ساری چیزیں سامنے آنے کے بعد بھی جو لوگ ساتھ کھڑے ہیں وہ بے وقوف اور اسی قابل ہیں۔

مصطفی کمال نے یہ بھی کہا کہ مردم شماری پر ہمارے شدید تحفظات ہیں اور ہم بھی ان نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ فلیٹ جو ایک گھر شمار کیا جارہا ہے، اگر ایسی رہا تو ملک ایسے نہیں چل سکے گا کیونکہ یہ مسائل معمولی نہیں بلکہ انتہائی حساس اور اہمیت کے حامل ہیں۔

میٹ اپ: بلاگرز کے مصطفیٰ‌ کمال سے کاٹ دار سوالات

 

ایم کیو ایم پاکستان کے انضمام سے قبل کیے گئے چند فیصلوں کو بھی مصطفی کمال نے غلط قرار دیا اور کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کے وقت بہت شاندار موقع تھا اس وقت آئینی ترمیم سمیت دیگر شرائط منوائی جاسکتی تھیں۔

کراچی میں 53 یوسیز بڑھنے پر مصطفی کمال نے کہا کہ یہ ایم کیو ایم کی کوششوں سے ہی ممکن ہوا۔