کراچی کے تاجروں نے ٹیکسوں میں ریلیف کی اپیل کردی
کراچی : آل کراچی تاجر الائنس اور لیاقت آباد حیدری جیولرز کے وفد کی آر ٹی او 2ایف بی آر کمشنر حمید ابٹرو سے ایف بی آر کے دفتر میں ملاقات ، وفد میں آل کراچی تاجر الائنس کے نائب صدر اور لیاقت آباد حیدری جیولرز کے صدر سید فراز احمد، آل حیدری بزنس ٹریڈرز کے صدر سید محمد سعید ، جنرل سیکرٹری محمد عاصم ، محمد اکرم، رضوان اﷲ،سید فہیم، محمد شہزاد، رفعت شاہ و دیگر عہدیداران شامل تھے۔
اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے آل کراچی تاجر الائنس کے نائب صدر اور لیاقت آباد حیدری جیولرز کے صدر سید فراز احمد نے تاجروں کے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معاشی حالات کا تقاضا ہے کہ تاجروں کو ریلیف فراہم کیا جائے ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے تاجربرادری مشکلات کا شکار ہو، کاروبار ختم ہوتا جارہا ہے کا کہنا تھا کہ تاجروں کو ریلیف فراہم کیا جائے مہنگائی اور بیروزگار ی کی وجہ سے لوگ مارکیٹوں کا رخ نہیں کر رہے ہیں جس سے تاجر اور دکاندار شدید پریشانی میں مبتلا ہیں ، پہلے ہی تاجروں پر بے شمار بھاری بھرکم ٹیکس لگے ہوئے ہیں مزید ٹیکسز نہ لگائے جائیں بلکہ کاروبار کو بہتر کرنے کے لیئے ٹیکسز میں ریلیف فراہم کیا جائے اتنا تو منافع نہیں ملتا جتنا ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔
ایف بی آر کمشنر حمید ابڑو نے آل کراچی تاجر الائنس کے نائب صدر اور لیاقت آباد حیدری جیولرز کے صدر سید فراز احمد کی گفتگو اور تحفظات نہایت تفصیل سے سنے اور ان کو یقین دہانی کرائی کہ تاجروں کو کسی بھی طرح سے پریشان نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کوئی مزید ٹیکسز لگائے جائیں گے۔
اس موقع پر کمشنر حمید ابڑو کو شکریہ ادا کرتے ہوئے آل حیدری بزنس ٹریڈرز کے صدر سید محمد سعید کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معاشی صورتحال نہایت خراب ہوچکی ہے ایسے میں اداروں کو بھی زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے لینے چاہیں تاجر برادری کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی اہمیت رکھتی ہے ملکی ترقی کے لیئے معاشی ترقی ضروری ہے اور معاشی ترقی اس ہی صورت میں ممکن ہے جب تاجروں کو ریلیف فراہم کیا جائےگا ، ایف بی آر کی جانب سے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیئے ڈالے جانے والے دبائو سے تاجروں میں بے چینی اور افراتفری پھیلی ہوئی ہے اور تاجر برادری شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔
ملاقات کے دوران آل حیدری بزنس ٹریڈرز کے جنرل سیکرٹری محمد عاصم کا کہنا تھا کہ کراچی کے تاجر صرف کراچی کے لیئے نہیں بلکہ پورے ملک کی بہتری کے لیئے کاروباری سرگرمیاں بڑھانے کے لیئے جدوجہد کر رہے ہیں کیونکہ کراچی کی معاشی خوشحالی سے پورے پاکستان کی خوشحالی جڑی ہوئی ہے اگر تاجروں کو ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو کاروبار مشکل ہوجائیگا جس کا سب سے زیادہ اور جلد ی اثر عام انسان اور مزدور طبقے پر ہوگا جو روزانہ کی بنیاد پر دیہاڑی پر کام کرتے ہیں۔
