وفاق ،پنجاب اور پختونخوا نے گندم کی امدادی قیمت تسلیم کرنے سے انکار کردیا
کراچی : گندم کی یکساں امدادی قیمت کے تعین پر وفاقی حکومت،پاسکو اورصوبوں کے مابین ڈیڈ لاک برقرار ہے، پاسکو،محکمہ خوراک پنجاب،کے پی کےسندھ حکومت کی مخالفت میں سامنے آگئے، سندھ کی اعلان کردہ گندم کی 4 ہزار روپے امدادی قیمت پر تحفظات کا تحریری اظہار کرتے ہوئے قیمت تسلیم کرنے سے انکارکردیا ہے۔
مخلوط وفاقی حکومت میں گندم کی امدادی قیمت کے معاملے پر اختلاف برقرار ہیں اوروفاق کے علاوہ دوصوبے پنجاب اورخیبرپختونخواہ نے سندھ کی مقررکردہ قیمت تسلیم کرنے سے انکارکردیا ہے،جس کی وجہ سے وفاقی حکومت گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے میں تاحال ناکام ہے۔
معتمد ذرائع کے مطابق گندم کی امدادی قیمت کا معاملہ وزیراعظم اور بلاول بھٹو زر داری میں اتفاق رائے سے طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے بعد سمری کی وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی تاہم بلاول بھٹو زرادی نے گندم کی امدادی قیمت تین ہزار روپے فی من مقرر کرنے کی سمری پر اعتراض کیا۔حکومتی ذرائع کے مطابق کچھ وفاق اور کچھ سندھ حکومت لچک کا مظاہرہ کرے تو قیمت پر اتفاق ہوسکتا ہے۔
وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے فی من گندم کی امدادی قیمت تین ہزار روپے تجویز کی ہےجبکہ سندھ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت چار ہزار روپے فی من مقرر کر رکھی ہے۔پاسکو کا کہنا ہےکہ 4 ہزار قیمت برقرار رہی تو سندھ سے ایک دانہ بھی نہیں خرید سکیں گے جبکہ محکمہ خوراک پنجاب نے واضح کیا ہے کہ امدادی قیمت میں فرق سے سرکاری خریداری کا ہدف حاصل کرنا ناممکن ہوگا۔
سندھ اور پنجاب کی امدادی قیمت میں ایک ہزار روپے کا فرق اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کو بڑھائے گا، سرکاری ہدف کی تکمیل کیلیے کسانوں سے زبردستی کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ بڑی ذخیرہ اندوزی ہوئی تو گندم امپورٹ پر کثیر زرمبادلہ خرچ کرنا پڑے گا۔
محکمہ خوراک پنجاب نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ میں گندم ریلیز قیمت 3400 اور پنجاب میں 2300 ہونے سے اسمگلنگ بڑھ رہی ہے، سرکاری گندم آٹا کی قیمتوں کو تمام صوبوں میں یکساں مقرر کیا جائے۔
