آئی ایم ایف شرائط پر عملدر آمد کے بعد ملکی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونا شروع

کراچی:آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات میں پاکستان کے لیے کوئی نرمی نظر نہ آنے اور قرض پروگرام کے لیے سیاسی جماعتوں کی ہم آہنگی سمیت دیگر سخت شرائط جیسے عوامل کے باعث جمعرات کو بھی ڈالر کی اتارچڑھاؤ کے بعد تیز رفتار پرواز جاری رہی جس سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ 269, 270 اور 271روپے سے بھی تجاوز کرگیا۔

کاروباری دورانئیے کے ابتدا میں ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی اور ایک موقع پر ڈالر کی قدر 2.32روپے کی کمی سے 266.50روپے کی سطح پر بھی آگئی تھی لیکن قرض پروگرام کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف حکام کے جارحانہ روئیے اور حکومت کے 952ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ پلان پر تحفظات کے اظہار کی خبروں سے مارکیٹ گھبراہٹ اور ڈیمانڈ بڑھی جس سے ڈالر نے یوٹرن لیتے ہوئے اڑان بھرنا شروع کردیا نتیجتا کاروبار کے اختتام پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مزید 2.53روپے کے اضافے سے 271.35روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 50پیسے کے اضافے سے 275.50روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف حکام ماضی میں کیے گئے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد نہ ہونے سے خائف ہیں اور انہی عوامل کے سبب آئی ایم ایف حکام نے قرض پروگرام کی بحالی کے لیے دیگر شرائط کے ساتھ یہ نئی شرط بھی عائد کردی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی قرض پروگرام سے متعلق ہم آہنگی کی بھی ضمانت دی جائے لیکن پاکستان میں جاری کشیدہ سیاسی ماحول کے تناظر میں تجارت وصنعتی شعبے اس حوالے سے غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہوگئے ہیں اور ذرمبادلہ کی ڈیمانڈ بڑھگئی ہے جس سے ڈالر کی اڑان دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسپورٹرز فارورڈ پر بھی کیش کرارہے ہیں جس سے مارکیٹ میں سپلائی بڑھگئی ہے۔ بینکنگ سیکٹر میں اوورسیز ورکرز کا لیگل ریمیٹینسز انفلو بڑھ گیا ہے اور بینکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں بینکوں کی ترسیلات زر کی گذشتہ چند روز میں یومیہ ترسیلات زر کی آمد 10 سے 12ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

اسی طرح ایکسپورٹرز نے بھی بیرونی ممالک سے اپنی برآمدی آمدنی کی 4 سے 5ملین کے چھوٹے چیکس منگواکر کیش کرانا شروع کردیے ہیں جس سے ڈالر کی قدرے بہتر ہوگئی ہے تاہم مارکیٹ میں طلب ورسد کی بنیاد پر کاروباری دورانئیے میں ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔