طلبہ مارچ کی کامیابی کے بعد پروپیگنڈہ شروع

ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں کل پروگرسیو اسٹوڈنٹ فیڈریشن کے بینر تلے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے ریلیاں نکالی گئیں جن میں شریک طالب علموں نے جامعات میں طلبہ یونین بحال کرنے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے سمیت دیگر مطالبات پیش کیے۔

ملک بھر میں نکلنے والی ریلیوں میں سیاسی اور دیگر نامور شخصیات سمیت اساتذہ نے بھی شرکت کی، لاہور میں نکلنے والی ریلی سب سے بڑی تھی جس میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیکڑوں طالب علموں نے شرکت کی جبکہ نوجوان پروفیسر عمار جان بھی شریک تھے۔

طلبہ مارچ کی کامیابی کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مخصوص صارفین کی جانب سے پروپگینڈا شروع کردیا اور اُن کا کہنا ہے کہ مذکورہ مارچ بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر شروع کیا گیا۔ صارفین نے خواتین کی تصاویر شیئر کیں جبکہ لاہور میں لال بینڈ کے ممبر کا لڑکیوں ہاتھوں یرغمال بننا بھی سوشل میڈیا کی زینت بن گیا۔

https://twitter.com/alighori89/status/1200669947657097216?s=20

https://twitter.com/Danishper/status/1200662927960870912?s=20

https://twitter.com/itlaa_com/status/1200439288950857729?s=20

https://twitter.com/PrinceMateenk/status/1200658954914877441?s=20