اینٹی بائیوٹک ادویہ کااستعمال ، 50 لاکھ افرادکی ہلاکت کاانکشاف

کراچی: ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج کی پرنسپل پروفیسرزیباحق نےکہا ہےکہ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن(اے ایچ اے )کی طرز پررہنمااصول (گائیڈ لائنز) وضع کرنےکے لیے قومی سطح پر کمیٹی تشکیل دینےکی ضرورت ہے۔ اے ایچ اے گائیڈ لائنز پر عمل کرکےدنیاکے بیشترممالک نے اپنی شرح اموات کوکم کیا ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی کی جانب سے پاکستانی گائیڈ لائنز وضع کرنےکے لئےتجاویز تیار ہیں، یہ باتیں انہوں نےڈاؤ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور پروفیشنل ڈیولپمنٹ سینٹر کے اشتراک سے اوجھا کیمپس کے عبدالقدیرخان آڈیٹوریم میں دل کےوالو میں انفیکشن کی بیماری "اینڈوکارڈائٹس” سےبچاؤ کی تدابیر (پروفائیلیکس) ‘ایک نظر’ کےعنوان سے منعقدہ کنٹی نیوڈمیڈیکل ایجوکیشن (سی ایم ای) سیمینارسےبطورمہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ جس میں ان کےعلاوہ ملکی و غیرملکی ماہرین صحت نے بھی خطاب کیا،ان میں نیدرلینڈسے آئے ترک نژاد امپلانٹو لوجسٹ ڈاکٹر تانیر یلدیز،ڈاکٹر محمد ہاشم (اسسٹنٹ پروفیسر کارڈیالوجی، کنسلٹنٹ انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ)، ڈاکٹر شمیم بہرام (کنسلٹنٹ انفیکشنز ڈیزیز انڈس اسپتال) شامل تھے جبکہ سیمینارکےاختتام پر طلبہ کےسوالات کے جوابات کے لئے پینل ڈسکشن کااہتمام کیاگیا جس میں ڈاکٹرانوارعلی، ڈاکٹر افضال قاسم ڈاکٹر طارق فرمان اورڈاکٹر افشاں کلیم سمیت مہمان اسپیکرزشامل تھے۔

سیمینارسےخطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرزیباحق نےکہاکہ اینٹی بائیوٹک( جراثیم کش) دواؤں کے استعمال میں محتاط ہونےکی ضرورت ہے اور ان کا بلاضرورت ، بے جااور کثرت سے استعمال کو روکنے کی قانون سازی کی جانی چاہیے۔نیدر لینڈ سے آئےڈاکٹر تانیریلدیز نے کہا کہ 2019 میں جراثیم کش دواؤں کےغیرمؤثر ہونےکے باعث پچاس لاکھ افرادزندگی کی بازی ہارگئے۔

یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ اسی لیے نیدرلینڈمیں اینٹی بائیوٹک دواؤں کے استعمال کے لیے سخت ہدایات ہیں جو کہ وقتا فوقتااپڈیٹ کی جاتی ہیں، معمولی عملیات(پروسیجرز)و جراحی (سرجری) میں جراثیم کش دوائیں استعمال نہیں کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر ہاشم ندیم نےکہا کہ دؤاوں کے بےجا،بلاضرورت اورکثرت کے باعث انکی اثرپذیری میں کمی واقع ہورہی ہے، اینٹی بائیوٹک دوائوں کی مزاحمت اور اس کے خطرات کے باعث ان کااستعمال کم سے کم کیاجاناچاہیے۔

ڈاکٹر شمیم بہرام نےخطاب میں کہا کہ مریضوں کی بہتر ین تشخیص کرکے جراثیم کاپتالگایاجائے جس کے بعد اس کے مطابق دوا تجویزکی جائے۔